18 اگست 2026 - 15:46
اسرائیل ہیوم: غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے پر غزہ کے اطراف آبادکار تشویش میں مبتلا

عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم کے مطابق غزہ کی تعمیر نو اور علاقے میں غیرملکی فورسز کی ممکنہ تعیناتی نے غزہ کے اطراف آباد اسرائیلیوں میں سکیورٹی خدشات بڑھا دیے ہیں۔ مقامی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے غزہ میں ممکنہ سیاسی و سکیورٹی تبدیلیوں کے اثرات اور آئندہ کے حالات سے متعلق انہیں مناسب معلومات اور اعتماد میں نہیں لیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم نے اشکول علاقائی کونسل کے سربراہ میخال اوزیہو کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ کے اطراف اسرائیلی بستیوں کے مقامی عہدیدار فوج کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، تاہم غزہ میں ممکنہ سیاسی اور سکیورٹی تبدیلیوں کے بارے میں حکومت کے ساتھ بات چیت ناکافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے کے رہائشیوں کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ غزہ کی صورتحال تبدیل ہونے کے بعد سرحد کے دوسری جانب اسرائیلی علاقوں میں کیا اثرات مرتب ہوں گے اور کیا فوجی تعیناتی میں تبدیلی یا غیرملکی فورسز کی آمد سے سرحدی علاقوں کے سکیورٹی انتظامات مزید مضبوط کیے جائیں گے۔

اوزیہو نے غزہ کے اطراف بستیوں کے لیے اہم شاہراہ 232 کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سڑک غزہ کی تعمیر نو سے متعلق ممکنہ سرگرمیوں اور غیرملکی فورسز کی نقل و حرکت کے متوقع حجم سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ان کے مطابق اس علاقے سے بھاری سازوسامان اور فورسز کی آمدورفت ان بستیوں پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے جو 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد اب بھی معمول کی صورتحال بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اشکول علاقائی کونسل کے سربراہ نے کہا کہ ان کے خدشات محض سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں پر مبنی نہیں بلکہ زمینی سطح پر نظر آنے والی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔ ان کے مطابق غزہ میں امن کونسل سے وابستہ گاڑیوں کی آمد بھی مقامی رہائشیوں کے لیے صورتحال میں تبدیلی کی علامت ہے، جبکہ اس عمل سے متعلق نقل و حرکت علاقے کی اہم شاہراہوں سے ہو رہی ہے۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حماس کو غیر مسلح کیے جانے سے پہلے غیرملکی فورسز غزہ میں داخل ہوں گی یا نہیں، اور اس عمل کے مختلف مراحل کی ترتیب واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔

اوزیہو نے 7 اکتوبر کے بعد غزہ کے اطراف آباد اسرائیلیوں میں پیدا ہونے والے اعتماد کے شدید بحران کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقامی عہدیداروں کے ساتھ براہ راست رابطہ اور مکمل تعاون کرے۔

انہوں نے کہا کہ غیرملکی فورسز کی تعیناتی، فوجی پوزیشنوں میں تبدیلی یا غزہ کی وسیع پیمانے پر تعمیر نو کا عمل سرحدی علاقوں کے رہائشیوں سے مشاورت کے بغیر نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ سرحد کے دوسری جانب ہونے والی ہر بڑی تبدیلی کے لیے اسرائیلی جانب بھی مناسب تیاری اور سکیورٹی انتظامات ضروری ہوں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha